30

آپ نے بھی کوئی تعبیر پہن رکھی ہے (غزل) – فیض خلیل آبادی

آپ نے بھی کوئی تعبیر پہن رکھی ہے
نیند نے خواب کی جاگیر پہن رکھی ہے

تبصرہ کرتا ہے یوں کھل کے نجومی مجھ پر
جیسے اُس نے مری تقدیر پہن رکھی ہے

اب تو زلفوں سے مجھے اپنی رہا کر دیں آپ
میں نے مدت سے یہ زنجیر پہن رکھی ہے

ڈھونڈنے سے کوئی ملتا ہی نہیں اُس کا بدل
میری آنکھوں نے وہ تصویر پہن رکھی ہے

ایک دن چھت بھی میسر اُسے ہو جائے گی
جس کی بنیاد نے تعمیر پہن رکھی ہے

بھاگتی دوڑتی دنیا کے سفر میں افسوس
آپ نے آج بھی تاخیر پہن رکھی ہے

بات سن کر مری کٹ جاتے ہیں سب لوگ یہاں
کیا مرے لہجے نے شمشیر پہن رکھی ہے

فیضؔ استاد سخنور بھی یہی کہتے ہیں
آپ کی غزلوں نے تاثیر پہن رکھی ہے

~ فیض خلیل آبادی

اِس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں